Surah Kausar Tarjuma in Urdu | Translation of Surah Kawsar

Surah Kausar is the 108th Surah of the Holy Quran revealed in Makkah. This Surah Al-Kawthar means the seeker or the giver. This Surah is a blessing of digestion and good deeds and a religious symbol of guidance, mercy, and great glory for Muslims.

Surah Kausar here represents the bounty, mercy, and magnificence of Allah, which was bestowed upon His beloved Prophet Muhammad (peace be upon him). This Surah tells us that Allah has blessed Prophet Muhammad (peace be upon him) with special blessings and giving children with great love and grace

Surah Kausar Tarjuma in Urdu
Surah Kausar Tarjuma in Urdu

Surah Kausar Arabic text

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
 فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ

Surah Kausar Tarjuma in Urdu

اللہ کے نام سے جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

(اے پیغمبر) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔
لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خوشنودی) کے لیے نماز پڑھو، اور قربانی کرو۔
يقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔

Surah Kausar Translation in English

(O Prophet) Be assured that We have given you the Kausar.
So pray for your Lord and sacrifice.
Know for sure that your enemy is the one whose root is cut off.

surah kausar with Urdu translation word by word

انا اعطینک الکوثر : ”الکوثر“ ”کثرۃ“ سے ”فوعل“ کا وزن ہے جو مبالغے کا معنی دے رہا ہے، بےانتہا کثرت۔ یعنی دشمن تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آپ کو بےانتہا دیا ہے۔

”الکوثر“ میں وہ ساری خیر کثیر شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی، مثلاً اسلام، نبوت، الخاق حسنہ، بہترین تابع دار امت، جنت اور دوسری نعتیں جو شمار نہیں ہوسکتیں۔ لغت کے لحاظ سے ”الكوثر“ کا معنی یہی ہے

صحیح بخاری میں ہے کہ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کی کہا نہوں نے ” الکوثر “ کے متعلق فرمایا : ” اس سے مراد وہ خیر ہے جو اللہ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی۔ “ راوی کہتا ہے

کہ میں نے سعید بن جبیر (رح) سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جنت میں ایک نہر ہے ؟ تو سعید (رح) نے کہا : ” جنت میں جو نہر ہے وہ بھی اس خیر میں شامل ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی“۔  (صحيح البخاري، التفسیر، سورة: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ : ٣٩٦٦)

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ یعنی اتنے بڑے انعام و احسان کا شکر بھی بہت بڑا ہونا چاہیے۔ تو چاہیے کہ آپ اپنی روح، بدن اور مال سے برابر اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں، بدنی و روحی عبادات میں سب سے بڑی چیز نماز ہے۔

اور مالی عبادات میں قربانی ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے کیونکہ قربانی کی اصل حقیقت جان کا قربان کرنا تھا۔ جانور کی قربانی کو بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی بناء پر اس کے قائم مقام کردیا گیا۔

جیسا کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے قصہ سے ظاہر ہے اسی لیے قرآن میں دوسری جگہ بھی نماز اور قربانی کا ذکر ساتھ ساتھ کیا ہے۔ (

 شَانِیٔ بغض و عداوت رکھنے والے دشمن کو کہتے ہیں۔ اَبْـتَر : بتر سے ہے ‘ یعنی کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ منقطع کردینا۔ اہل عرب دم کٹے جانور کو ابتر کہتے ہیں۔

عرف عام میں اس سے ایسا آدمی مراد لیا جاتا ہے جس کی نرینہ اولاد نہ ہو اور جس کی نسل آگے چلنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ یہ لفظ مشرکین مکہ نے (معاذ اللہ) حضور ﷺ کے لیے استعمال کیا تھا ‘ جس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ (رض) کے بطن سے حضور ﷺ کی یہ اولادپیدا ہوئی : قاسم ‘ پھر زینب ‘ پھر عبداللہ ‘ پھر اُم کلثوم ‘ پھر فاطمہ ‘ پھر رقیہ۔ (رض) اجمعین۔ پہلے قاسم کا انتقال ہوا۔

پھر عبداللہ (جن کا لقب طیب و طاہر ہے) داغِ مفارقت دے گئے۔ اس پر مشرکین نے خوشیاں منائیں کہ آپ ﷺکے دونوں فرزند فوت ہوگئے ہیں اور باقی اولاد میں آپ ﷺ کی بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں۔

لہٰذا آپﷺجو کچھ بھی ہیں بس اپنی زندگی تک ہی ہیں ‘ آپ ﷺ کے بعد نہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل آگے چلے گی اور نہ ہی کوئی آپ ﷺکا نام لیوا ہوگا۔

اس پس منظر میں یہاں ان لوگوں کو سنانے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺآپ کا نام اور ذکر تو ہم بلند کریں گے ‘ جس کی وجہ سے آپ کے نام لیوا تو اربوں کی تعداد میں ہوں گے ۔ البتہ آپ کے یہ دشمن واقعی ابتر ہوں گے جن کا کوئی نام لیوا نہیں ہوگا۔

Leave a Comment